ماتمی ماحول میں خوشیاں کیسی؟


بچپن میں جب ایک بار امی نے عید کے نئے کپڑے نہیں بنائے تو معلوم ہوا کہ وہ اس سال عید نہیں منائیں گی، نانا کی وفات کو کچھ ہی ہفتے گزرے تھےاور امی کے مطابق جس گھر میں ماتم ہو وہاں خوشیاں نہیں منائیں جاتیں۔

بھلا کوئی عید کے دن کیسے افسردہ ہو سکتا ہے؟ چاہے کچھ بھی ہو سال میں ایک دن ایسا ضرور ہونا چاہیے جب انسان خوشی منا سکے اور عید سے بہتر اور کیا کوئی اور تہوار ہو سکتا ہے؟

وقت بھی عجیب ہے، کچھ سبق وقت کے ساتھ ہی ملتے ہیں۔ انیس سال بعد آج کے دن شاید امی کی بات کا مطلب سمجھ اور محسوس کر سکتی ہوں۔

 جس گھر میں ماتم ہو وہاں خوشیاں نہیں منائیں جاتیں۔

جب ملک بھر میں ماتم کا سا ماحول ہو تو کونسا تہوار اور کیسی خوشیاں؟ ہماری شرم، لحاظ اور ہمت کا ماتم، ماتم ہماری غیرت کا جو ایک گیارہ سال کی معصوم اور معذور بچی کے اوپر ظلم ہوتا دیکھ کر بھی خاموش ہے۔

 بے حسی کا یہ مقام ہے کہ سو لوگوں کا مجمع اس بچی کو زندہ جلانے پر تلا ہے اور شاید کامیاب بھی ہو جائے، پر خوف اور بے بسی کا یہ عالم ہے کہ ہم اس ظلم پر کھل کے بات بھی نہیں کر سکتے۔

اس ماتم زدہ ماحول میں پھر کوئی کس چیز کی خوشی منائے؟ وہ بھی عید، جو رمضان کے مکمل ہونے کا جشن ہے، سال کے وہ تیس دن جو ہمارے صبر اور قوت برداشت کے لیے آزمائش ہیں۔ اور جس آزمائش میں ہم مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔

ہم کیسے خوشی منا سکتے ہیں جب گیارہ سالہ رمشا اڈیالہ جیل میں ایک ایسے جرم میں قید ہے جس کا وہ تصور کرنے کے بھی قابل نہیں ہے۔ تھانے میں جب پولیس نے اس کا بیان لینا چاہا تو صرف اتنا ہی لکھ سکے کہ وہ ان کاغذوں کو ایک محفوظ مقام پر لے کر جارہی تھی۔

لیکن یہ بات سمجھنا شاید ان سو لوگوں کے بس کی بات نہیں، جو کافی گھنٹے تھانے کے باہر پولیس کو یہ کہتے رہے کہ وہ بچی انکے حوالے کر دیں تاکہ خود اس سے نمٹ سکیں۔

شاید ہم سب اپنی جان کی پرواہ کرتے ہیں اور خوفزدہ ہیں۔ ایسا ہونا صحیح بھی ہے۔

مگر میرا سوال یہ ہے کہ ایسا کون سا مذہب ہے جو انہیں ایک گیارہ سالہ معذور بچی کو زندہ جلانے کی اجازت دیتا ہے؟

اور جس نورانی قائدے کی بے حرمتی پر یہ لوگ اتنے طیش میں ہیں اس کی بے حرمتی یہ کم ہوگی کہ اس کے پڑھنے والوں اور درندوں میں کوئی فرق نہ رہے۔

اور یہ کیسا خوف ہے جو ہم پر طاری ہے اور کب تک؟

سنا ہے کے خوف کے زیر اثر بزدل بھی شجاعت دکھا سکتا ہے۔ کاش یہ سچ ہو

About these ads

3 thoughts on “ماتمی ماحول میں خوشیاں کیسی؟”

  1. Dear Sana Saleem

    You are absolutely right, really, it is shame for us, when more than hundreds people ready to kill a innocent girl (whose age is just 11 years old, and she is mentally ill) for the sake of Islam. Islam is a great and peerless Religions. Islam not allowed to kill any one, whatsoever his/her religious.

    Secondly, the most alarming is: no one ready to speak against that person, who plan this. I think, that person should be hang, who use the name of Islam for his/her personal interest and ready to kill or plan to kill other religious community.

    Please, if you have a time, you should write down regarding the Training (Islam is Enlightened Religious) of our Mullah, who consider only religious study is enough for life and living and consider Physics, Chemistry, Biology and other science and modern subjects are not related with Islamic Knowledge. My simple question is, Whenever they need treatment, they go to Mudersah or Hospital.

    Dear Sana Saleem GOD BLESS YOU WITH HEALTH & CARE.

  2. good to know that there are people out there with positive & realistic approach & they have the courage give voice to their thoughts as well

  3. It’s a very sensitive post! i wish we can take some practical measures to make a difference in our individual and national lives. There are some ideas to write on in order to make people independent and self sufficient to deal with their life issues, but the question is ‘Who will care and dare?’

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s