منور حسن کے نام ایک خط


امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن — فائل فوٹو –.

امیر محترم جناب منور حسن صاحب

السلام علیکم!

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں نے یہ خط لکھنے سے پہلے کافی سوچ بچار کی کہ کہیں آپ کی حالیہ پریشانیوں میں اضافہ نہ کر دوں پر چوہدری نثار صاحب کی التجائی تقریر اور آپ کا اپنے بیان پر قائم رہنے کے بعد اور کوئی چارہ نہ بچا۔

میں نے پہلے بھی آپ کو ایک خط لکھا تھا پر اسکا کوئی جواب نہیں آیا، کوئی بات نہیں خط ویسے بھی عورتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں تھا ایسی چیزوں کو ہمارے معاشرے میں کہاں اہمیت دی جاتی ہے۔

کیا فرق پڑتا ہے اگر ایک پانچ سالہ بچی کو درندگی کا نشانہ بنا کر زندہ دفنا دیا جائے۔ اس کا اپنے آپ کو اس قبر سے باہر نکالنا بھی کس کام کا جب وہ آپ کی ہدایت کے مطابق چار گواہ نہ پیش کر سکے۔ چار سالہ مہوش کی بات بھی کیا کوئی سنے گا، اس کا مجرم تو کیمرے کے سامنے اسے ہسپتال چھوڑ گیا، شاید آپ  یہ کہیں کہ ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ بچی کو ہسپتال تو پہنچا گیا۔

خیر غیر ضروری گفتگو پر معذرت، میں صرف آپ سے کچھ سوال پوچھنا چاہوں گی۔ عرض یہ ہے کہ کچھ عرصے قبل انٹرنیٹ پر انیس سو اسی میں کیے گئے ایک انٹرویو کی اسکینڈ تصویر شائع کی گئی۔ انٹرویو برطانوی اخبار انڈیپینڈینٹ میں شائع ہوا اور مشہور کالم نگار روبرٹ فسک نے لکھا تھا. تاریخ سے نا واقف لوگوں کے لئے یہ ایک کافی حیرت انگیز انٹرویو تھا، جس میں اسامہ بن لادن کو ایک بہادر مجاہد قرار دیا گیا جو کہ امن کی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ جیسے تاریخ سے واقف لوگوں کے لئے شاید یہ حیرت انگیز نہ ہو پر کافی لوگوں کے لئے تھا۔ آپ کے حال ہی کے بیان سے مجھے خیال آیا کے دریافت کروں؛

“اگر امریکا کا مارا ہوا کتا شہید یا امریکا کی جنگ لڑنے والا ہلاک ہے تو ستر کی دہائی میں افغانستان میں لڑنے والا جنگجو ہلاک ہوا یا شہید؟”

کیا امریکا کے پیسوں پر جہاد جائز ہے؟

اور اگر نہیں تو تاریخ کی اس عظیم کوتاہی کو کس طرح سدھارا جائے؟ کیونکہ اگر آپ کو یاد ہو تو امریکا نے نا صرف ٹریننگ میں مدد کی بلکہ بھاری بھرکم اسلحہ اور پیسے بھی فراہم کئے تھے. اس وقت کمیونزم کے خلاف جنگ کو جہاد بنا دیا گیا تھا اور جے آئی کے کارکنان نے اس کی بھرپور حمایت کی.

ایک اور بات، جن سترہ فوجیوں کا تیراہ میں گلہ کاٹا گیا وہ ہلاک ہوئے یا شہید؟ کیا ان کی موت سلالہ میں شہید ہونے والے سپاہیوں سے کم تر ہے؟ اگر ہے تو مہربانی کر کے ان کے عزیزواقارب کو اطلاع کر دیں جو اپنے جوان بچوں کی کٹی ہوئی لاشیں دفنا کر تمغوں کے سہارے زندہ ہیں۔ پاک فوج کے سپاہیوں کی تو شاید آپ کو فکر نہیں پر اپنے پرانے افغان جنگجو دوستوں کی ہی قدر کریں اور آخری بار تاریخ درست کر دیں۔

گستاخی معاف، یہ انٹرنیٹ بھی عجیب چیز ہے، مغرب کا ایک اور حربہ، پر کبھی اس پر کرنل امام کے قاتل کی ویڈیو ضرور دیکھیے گا شاید پرانے جنگجو دوستوں کی ایک پرانی ترکیب یاد آ جائے۔

شکریہ

About these ads

7 thoughts on “منور حسن کے نام ایک خط”

  1. ثنا سلیم صاحبہ! تعجب نہیں ہوا آپ کا مضمون اردو میں دیکھ کر۔ ہاں مگر آپ کے لکھنے کے انداز میں پختگی نظر نہیں آئی۔
    کیا ہی بہتر ہوتا کہ آپ اپنا بلاگ نستعلیق میں کروالیں کہ پڑھنے میں آسانی ہو۔
    آپ کے نام وقار عظیم کے جوابی خط کے بعد مزید تبصرے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ امید ہے آپ کے تحفظات دور ہوگئے ہونگے۔
    جوابی خط کا لنک: http://www.qalamkarwan.com/2013/11/sana-saleem-kay-naam.html

  2. we are the nation, but some reason we are divided. but in case if anyone hurts our feeling as hurt our country, religion and our values we are united. its very hard difficult to perform duty on borders for our safety, Mr. Munawer if you stay on border for nations safety for a only 1 hour, I bet your views will change. and you start respect PAK ARMY. PAK ARMY ZINDABAD

  3. بین القوامی منظر نامہ اور عالمی سیاست میں دوستیاں دشمنیاں کوئی مسقل چیز نہیں ہوتی۔ صرف قومی مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ یہ کوئی ایسی پیچیدہ بات نہیں جسے خواہ مخواہ پیٹا جائے۔
    پہلے روس جارح تھا اور امریکہ نے اس جہاد میں مدد دی۔ اسکے اپنے مفادات تھے اور ہماری اپنی ضروریات۔۔ آج امریکہ جارح ہے اور اسکے خلاف جہاد اسی طرح فرض ہے جیسے روس کے خلاف تھا۔
    کیا آپ کا کل کا کوئی دوست آج دشمن بن جائے تو کیا آپ اپنا دفاع کرنا چھوڑ دیں گیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s